Gedenkfeier anläßlich des 100. Geburtstags von

 

Centenary Celebration

Ismat Chughtai und Rajinder Singh Bedi

am

31. Mai 2015, um 16.00 Uhr

Ort: „PallasT“, Pallasstr.35, Berlin-Schöneberg

 

Programm:

 

Vorträge: Humanistische und fortschrittliche Gedanken

von Ismat Chughtai und Rajinder Singh Bedi

Dokumentarfilm

Musik

Mushaira (Dichterlesung)

 

جشنِ صد سالہ سالگرہ

عصمت چغتائی اور راجندر سنگھ بیدی

بروز اتوار، بتاریخ 31 مئی 2015 بوقت شام 4 بجے

بمقام: پالاسٹ، پالاس اسٹراسـے 35 ، برلن۔شوئنے برگ

پروگرام

سنگیت: دھیرج رائے

استقبالیہ: عارف نقوی ، صدر اردو انجمن

دستاویزی فلم عصمت چغتائی اور راجندر سنگھ بیدی: سارہ ظہیر اور انور ظہیر

:مقالے

عصمت چغتائی اور راجندر سنگھ بیدی کی تخلیقات میں انسان دوستی اور ترقی پسندی

مہمان خصوصی: ڈاکٹر عمار رضوی

مہمان: محترمہ فرزانہ فرحت ، برطنیہ۔پاکستان، محترمہ فرخندہ رضوی، برطانیہ۔پاکستان

مقرر: ڈاکٹر عمار رضوی،عشرت معین سیما،ارشاد پنجتن، عارف نقوی، انور ظہیر رہبرؔ

رسمِ اجراء

اٹلی کی جانب گامزن از۔ عشرت معین سیما، تعارف عارف نقوی

کیرم سے رشتہ ، خار و گُل از۔ عارف نقوی، تعارف انور ظہیر

فنکار: میاں اکمل لطیف، آصف خاں، دھیرج رائے

دوسرا دور

صدر مشاعرہ: ڈاکٹر عمار رضوی

شعراء

ارشاد خان، عشرت معین سیما، سوشیلا حق، انور ظہیر رہبر،فرزانہ فرحت، فرخندہ رضوی،عارف نقوی اور دیگر خواتین و حضرات

جرمن ترجمہ: اُووے فائلباخ اور سارہ ظہیر

نظامت: خواجہ نایاب اور جاریہ

مندرجہ ذیل خواتین و حضرات کو اردو انجمن برلِن کے اعزاز سے

میمنٹو، سرٹیفیکٹ اور پھولوں سے نوازاگیا

ڈاکٹر عمار رضوی،عشرت معین سیما، فرزانہ فرحت،نایاب خواجہ، انور ظہیر،سارہ ظہیر

 

 

 

 

 

 

 

اردو زبان و ادب کےفروغ کے لئے الکٹرانک ذرائع کا استعمال کرنا چاہئے

 ڈاکٹر عمـار رضوی کا مشورہ۔

 

رپورٹ۔ عارف نقوی 

اکتیس مئی کو جرمنی کی راجدھانی برلِن میں پالاس یعنی محل نامی عمارت میں اردو انجمن برلن کی طرف سے عظیم افسانہ نگار عصمت چغتائی اور راجندر سنگھ بیدی کی صد سالہ سالگرہ کے حوالے سے ایک شاندار تقریب کی گئی۔ مہمان خصوصی کی حیثیت س لکھنئو ، ہندوستا سے ڈاکٹر عمار رضوی اور مہمانِ اعزازی کی حیثیت س پاکستان برطانیہ سے محترمہ فرزانہ فرحت اور محترم فرخندہ رضوی نے شرکت فرمائی۔ ڈاکٹر عمار رضوی نے مشاعرہ کی صدارت بھی کی۔ تقریب میں اردو، جرمن، پنجابی، بنگالی زبانوں کے شیدائیوں نے عصمت چغتائی اور راجندر سنگھ بیدی کو خراج عقیدت پیش کئے اور اردو ادب میں انسانیت، امن اور دوستی سے بصیرت حاصل کی اور اردو شاعری اور گیتوں سے لطف اندوز ہوئے ۔

تقریب کا آغاز بنگالی مغنی دھیرج رائے کی مدھر آواز میں اردو گیتوں اور عصمت اور بیدی کی زندگی اور تخلیقات کے بارے میں سارہ ظہیر کی تیار کی ہوئی مختصر دستاویزی فلموں سے کیا گیا۔

اس کے بعد اردو انجمن کےصدر ڈر عارف نقوی نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر عمار رضوی ہمیشہ اردو کی بقا اور فروغ کے لئے لڑتے رہے ہیں۔ وہ اتر پردیش میں دو بار ایکٹنگ چیف منسٹر رہے ہیں اور مدتوں وزیر رہے ہیں جس کے دوران ان کی کوشش سے اردو کو سرکاری درجہ دینے کے لئے تجویز اسمبلی میں منظور کی گئی ہے اور تین ہزار اردو اساتذہ کا تقرر کیا گیا ہے۔ انھوں نے اپنی جائے پیدائش محمود آباد میں ایک بڑا سائنس اور ٹکنالوجی کا انسٹی تیوٹ قائم کیا ہے جس میں ساڑھے چار ہزار طلباء ہیں اور اب وہ یونیورسٹی بننے جا رہا ہے۔پاکستانی شاعرہ محترمہ فرخندہ رضوی کا تعارف کراتے ہوئے عارف نقوی نے بتا یا کہ ان کی چار کتابیں شائع ہو چکی ہیں، جبلہ محترمہ فرزانہ فرحت کی دو کتابیں داد تحسین حاصل کر چکی ہیں۔

جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے ڈاکٹر عمار رضوی نے اس بات پر مسرت کا اضہار کیا کہ اتنی بڑی تعداد میں مختلف زبانوں اور شعبوں کے لوگ اردو انجئمن کے جلسے میں شریک ہیں، جو دکھاتا ہے کہ اردو زبان کی خوبصورتی ساری دنیا میں اس کی مقبولیت کو بڑھا رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کے اور زیادہ فروغ کے لئے کمپیوٹر ٹکنالوجی سے فائدہ اٹھا یا جائے۔ عمار صاحب نے کہا کہ اردو کی نشو نما میں جرمنی کا بھی رول رہا ہے کیونکہ ہمارے ادب کی ارتقائی منزلوں میں اردو شعر و سخن کو فکری اعتبار سے بلندیوں پر پہنچانے والی شخصیت علامہ اقبال کی ذہنی و فکری تربیت اس زمین پر ہوئی ہے۔ دیار غیر کے دور دراز ملکوں میں اور نئی نئی بستیوں میں خصوصاً غیر اردو داں حلقوں میں ، یہاں کی تہذیب و تمدن میں یہ زبان بے پناہ مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ اردو زبان کی اس مقبولیت اور شہرت کو بڑھانے میں جرمنی میں عارف نقوی ،انوراور ظہیر اور ان کے دیگر ساتھیوں کی پر خلوص خدمات قابلِ قدر ہیں۔ ڈاکٹر عمار رضوی نے دعوت دی کہ اردو انجمن برلن کا ایک سیشن اس سال لکھنئو میں کیا جائے۔ اس دعوت کو اردو انجمن کے اراکین نے بخوشی شکرئے کے ساتھ قبول کیا۔ راجندر سنگھ بیدی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے عمار رضوی نے کہا کہ بیدی نے اپنے افسانوں کا تانا بانا زندگی کے تلخ ترین حقائق سے بُنا ہے۔ لیکن ان کے یہاں تلخی یا بیزاری نہیں ملتی۔وہ زندگی کے تاریک گوشوں میں محبت، ہمدردی اور انسانیت کی کرن دیکھتے ہیں۔

ؑسمت چغتائی پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ عصمت کی نثر اپنے اندر بے ساختگی اور تیکھے پن کے علاوہ تخلیقی جوہر رکھتی ہے۔ عمار ؑمار صاحب کی تقریر کا جرمن زبان میں ترجمہ اردو انجمن کے سکریٹری اُووے فائلباخ نے کیا۔

محترمہ عشرت معین سیما نے عصمت چغتائی کے افسانوی فن کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہوئے خاص طور سے عورتوں کے مسائل پر ان کی تحریروں کے حوالے دئے۔ جبکہ اداکار ارشاد پنجتن نے بیدی اور عصمت سے اپنی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے بیدی کے کئی دلچسپ لطیفے سنائے۔

جلسے میں عارف نقوی کی اردو اور انگریزی زبان میں کتابون کیرم سے رشتہ اور عشرت معین سیما کی کتاب سفر نامہ اٹلی کی جانب گامزن کی رسم اجراء بھی کی گئی۔ انور ظہیر رہبر نے عارف نقوی کی کتاب پر مضمون پڑھا جس کا جرمن ترجمہ سارہ ظہیر نے پیش کیا۔ جبکہ عشرت معین سیما کی کتاب اٹلی کی جانب گامزں پر تفصیل سے تبصرہ کرتے ہوئے عارف نقوی نے انھیں اس بہترین پیشکش کے لئے مبارکباد دی اور کہا کہ یہ ایک دلچسپ اور معلومات سے بھر پور داستان ہے جسے پڑھکر دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔

جلسے میں پنجابی زبان کے سکھوں کے ایک ٹی وی چینل کے نمائندوں نے بھی اپنے خیالات ظاہر کئے اور اردو زبان و ادب تعریف کی اور اپنے تعاون کا یقین دلایا۔

پہلے دور کا اختتام میاں اکمل لطیف اور آصف خاں نے اردو کلاسیکی غزلیں اور گیت بہترین سروں اور طبلے کی تھاپ کے ساتھ پیش کرتے ہوئے کیا۔ اور ایسا شاندار سماں باندھا کہ لوگوں کی فرمائشیں رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔

اس کے بعد مشاعرہ کا دور شروع ہوا جس کی صدارت ؎ڈاکٹر عمار رضوی نے فرمائی۔ مشاعرہ میں اردو شاعروں کے ساتھ ، ہندی، پنجابی، بنگالی شعراء نے بھی اپنے کلام پیش کئے۔ جن میں خاص طور سے فرخندہ رضوی فرزانہ فرحت، سوشیلا شرما، عشرت معین سیما، انور ظہیر، ارشاد خاں اور عارف نقوی وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ جلسے میں نظامت کے فرائض محترمہ نایاب خواجہ اور محترمہ جاریہ نے نہائت خوبی سے ادا کئے۔

 

 

________________________________________________________________________________________________________

 

 

 

برلن میں اردو زبان و ادب کے شیدائیوں کو صدمہ

                                            برلن 5 اگست 2014
 

جرمنی کی راجدھانی برلن میں اردو زبان و ادب  اور لکھنوی گنگا جمنی تہذیب کا ایک چراغ بجھ گیا۔ زندہ دلی، شرافت، ثقافت، انسانی ہمدردی ، محبت اور رفاقت کی بہترین مثال جناب ناصر علی خان اس دنیائے فانی کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے چلے گئےہیں۔ ان کا انتقال 30 جون 2014 کو برلن میں ہوا۔ یکم اگست کو مسجدِ بِلال میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور 5 اگست کو انھیں برلن کے علاقے گاٹو میں مِکس میلین کولبے اسٹراسے کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
ناصر علی خان اردو انجمن برلن کے بانیوں میں شامل تھے۔ جنھوں نے ہمیشہ اردو زبان و ادب کے فروغ کے لئے اردوو انجمن کی سرگرمیوں کو سراہا اور پورا تعاون کیا۔
پچھلے کئی برسوں سے وہ سخت علیل تھے اور ٹانگوں سے معذور ہو گئے تھے۔ کئی بار انھیں اسپتالوں میں قیام کرنا اور ۤآ پریشنوں کا سامنا کرنا پڑا۔
پھر بھی وہ ترقی پسند، انسانیت پسند اور امن و رفاقت پسند اردو ادب کے فروغ کے لئے اردو انجمن کی کاوشوں کو سراہتے اور تعاون کرتے رہے۔ اور اس کے جلسوں میں پہئیوں والی کرسی سے تشریف لاتے تھے۔ گذشتہ سال اردو انجمن نے ناصر کو ان کی خدمات اور اردو سے محبت کے لئے اپنے جلسے میں ایک بڑا اعزاز بخشا تھا۔
ناصر علی خاں کیرم کے کھیل کے بھی دلدادہ تھے اور برلن میں اس کھیل کے فروغ کے لئے بھی سرگرم رہے۔ وہ برلن میں ہونے والے کیرم کے ٹورنامنٹوں کی کامیابی کے لئے بھی کوشاں رہے۔ 1998 میں جب برلن میں یوروپئین چیمپین شپ ہوئی تو ناصر اس کی تیاری کمیٹی کے رکن بھی تھے۔ 2000 میں نئی دہلی کے تالکٹورہ گارڈن کے اسٹیڈیم کے ہال میں جب کیرم کی عالمی چیمپین کی گئی تو ناصر اس میں بھی مہمان کی حیثیت سے شریک تھے۔ اپنی علالت کے دنوں میں بھی ناصر ارد زبان و ادب اور کیرم کی ترقی کے بارے میں دریافت کرتے رہے۔
افسو کہ اردو زبان و ادب اور کیرم کے صحتمند کھیل کا یہ زندہ دل، مخلص،انسانیت پرست اور دوست اب ہمارے درمیان نہیں رہا ہے، لیکن اس کی محبت، اخلاص، زندہ دلی او ہمدردی کی مشعل ہمارے دلوں میں زندہ رہے گی۔ اللہ تعلیٰ ناصر کو اپنی حفظ و امان میں جگہ دے۔ اس پر اپنی رحمتیں نازل کرے اور جنت میں جگہ دے۔ اللہ تعلیٰ ناصر کی اہلیہ کو  جنھوں نے ناصر کے ۤخری وقت تک ان کی بے لوث خدمت کی نیز ان کے دیگر سب رشتے داروں کو اس زبردست صدمے کو برداشت کرنے کی قوت عطا کرے۔
اردو انجمن برلن اور برلن کی کیرم اسپورٹس ایسوسی ایشن ناصر کی مشعل کو ہمیشہ روشن رکھیں گی۔

عارف نقوی
صدر اردو انجمن برلن
صدر عالمی کیرم فیڈریشن،
کیرم اسپورٹس ایسو سی ایشن برلن

 

 

 

برلن کےادبی جلسے

 

 

جرمنی کی راجدھانی برلن میں جشنِ کرشن چندر، خواجہ احمد عباس اور احسان دانش


کرشن چندر، خواجہ احمد عبـاس اور احسان دانش کاجرمنی کے دانشور حلقوں میں کسقدر احترام کیا جاتا ہے اس کا اندازہ یکم جون کو جرمنی کی راجدھانی برلن میں ہوا، جب ان تینوں ادیبوں کی صد سالہ سالگرہ منانے کے لئے ایک یادگار تقریب میں بڑی تعداد میں ہندوستانیوں، پاکستانیوں کے ساتھ جرمن دانشوروں نے شرکت کی۔
 یہ زوردار تقریب  اردو انجمن برلن کی طرف سے شہر کے مرکز میں محل نامی عمارت میں منعقد کی گئی تھی۔ جس میں ہندوستان سے دہلی یونیورسٹی کے  اردو استاد جناب ڈاکٹر خالد علوی، کراچی کے ادیب مبشر علی زیدی، اور برطانیہ کی شاعرہ محترمہ فرزانہ فرحت کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔
تقریب کا آغاز ستار کی جھنکار اور طبلہ کی تھاپ سے ہوا اور
محترمہ نایاب خواجہ اوراور محترمہ آمنہ خواجہ نے اردو اور جرمن زبانوں میں خوبصورتی سے نظامت کے فرائض انجام دئے۔
جلسے میں مہمانوں کا خٰیرمقدم کرتے ہوئے اردو انجمن کے صدر عارف نقوی نے انڈین کائونسل آ ف کلچرل ریلیشنز کے صدر جناب کرن سنگھ ایم پی کا پیغام تہنیت پڑھکر سنایا۔ اس کے بعد کرشن چندر، خواجہ احمد عباس اور احسان دانش کی تحریروں میں انسانیت، دوستی، امن اور سماجی انصاف کے پیغام کے موضوع پر مقالے پیش کئے گئے۔اور اردو انجمن کے نائب صدر انور ظہیر کی تیار کی ہوئی  فلمی جھلکیا پیش کی گئیں اور ساز سنگیت اور مشاعرہ کا پروگرام پیش کیا گیا۔
دہلی یونیورسٹی کے ذاکر حسین کالج کے اردو استاد ڈاکٹر خالد علوی نے، جو مہمان اعزازی کی حیثیت سے شریک تھے،  خواجہ احمد عباس کی زندگی  کے مختلف پہلوئوں اور ادبی، صحافتی ، فلمی و سماجی  خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور بتایا کہ وہ ایک بڑے فنکار ہی نہیں بلکہ بڑے انسان بھی تھے اور دوسروں کے دکھ درد میں شریک رہتے تھے۔ عباس نے ساحرلدھیانوی، امیتابھ بچن، سریکھا ، جلال آغا، شہناز آغا اور مس انڈیا پرسیس کھمباٹا وغیرہ کو فلمی دنیا سے متعارف کرایا۔ ڈاکٹرخالد علوی کی تقریر کا خلاصہ
اردو انجمن کے سکریٹری اُووے فائلباخ نے جرمن زبان میں پیش کیا۔              

اس سے قبل مبشر علی زیدی اور عارف نقوی نے  کرشن چندر کے بارے میں تفصیل سے تقریریں کیں۔ مبشر علی زیدی نے جو مہمان خصوسی تھے کرشن چندر کے کئی مایہ ناز افسانوں کا ذکر کیا اور دلچسپ حوالے دئے۔ جبکہ عارف نقوی نے خاص طور سے کرشن چندر کے ڈراموں کے بارے میں بتایا اور کہا کہ ان کے ڈرامے سرائے کے باہر اور کتے کی موت میں وہ لکھنئو ریڈیو اسٹیشن پر حصہ لے چکے ہیں اور 1957 سے 1961 تک لکھنئو اور دہلی میں اسٹیج پر پیش کر چکے ہیں۔ عارف نقوی نے ان دونوں ڈراموں کا جرمن زبان میں ترجمہ بھی کیا جو برلن ریڈیو سے براڈکاسٹ کئے گئے اور کافی مقبول ہوئے۔ کرشن چندر کی کئی کہانیاں بھی جرمن رسائل میں شائع ہو چکی ہیں۔عارف نقوی نے جو کرشن چندر سے بہت قریب سے واقف تھے بتایا کہ کرشن چندر نہایت نفیس اور پرخلوص انسان بھی تھے اور زندگی و قدرتی حسن سے پیار کرتے تھے۔
 عشرت ظہیر سیما نے شاعر احسان دانش کی ترقی پسند شاعری پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور ان کی زندگی اور شاعرانہ عظمت کے بارے میں بتایا۔
 جلسے میں جرمن فنکار سیباستیان درائر اور آصف خان نے ستار اور طبلے سے لوگوں کو لبھایا، جبکہ گلوکار دھیرج رائے نےاردو، انگریزی، جرمن اور بنگالی میں نظم پیش کرتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیا۔
تقریب کے دوران ڈاکٹر خالد علوی کے ہاتھوں عارف نقوی کی تازہ کتاب ّنصف صدی جرمنی میں ٗ کی رسم اجرا ادا کی گئی۔اس موقع پر بولتے ہوئے اردو انجمن کے نائب صدر انور ظہیر نے بتایا کہ کتاب ّنصف صدی جرمنی میںّ عارف نقوی کے جرمنی میں پچاس سال کے قیام کے تجربات اور مشاہدات کا نچوڑ ہے۔ ڈاکٹر خالد علوی نے کہا کہ یہ کتاب جرمنی کے بارے میں بہت سی اہم اور دلچسپ معلومات سے بھری ہے اور خاص طور سے اردو قارئین کے لئے بہت اہم ہے
اس کے بعد عارف نقوی نے عشرت معین سیما کا تعارف کراتے ہوئے بتا کہ انھیں یوروپین یونیں کے ایک ادرے نے جرمنی میں اردو ادب کی خدمت کے لئے اعزاز سے نوازا ہے ، جو قابلِ مبارکباد ہے۔اردو انجمن کی طرف سے بھی سیما کو ایک اعزازی سرٹیفیکیٹ دیا گیا۔
تقریب کا اختتام ایک مشاعرہ سے کیا گیا جس کی صدارت اردو انجمن کے صدر عارف نقوی نے کی۔ مشاعرہ کا آغاز عشرت معین سیما نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے اپنی غزل سے کیا۔ اس کے بعد مختلف مقامات سے آئے ہوئے شعرا نے کلام پیش کئے جن میں خاص طور سے برطانیہ سے آئی ہوئی مہمان شاعرہ فرزانہ فرحت، ہندوستان کے ڈاکٹر خالد علوی، پاکستان کے رشی خان، ہمبر کے شاعر شاہ جی،  حنیف تمنـا، رخسار انجم، عشرت معین سیما، انور ظہیر، محمد ارشاد ، ہندی کی سوشیلا شرما، پنجابی شاعرہ ہربجن کور اور جرمن شاعرہ دیلے گرونڈ نےاور ۤخر میں عارف نقوی نے اپنا کلام پیش کیا۔

 

دو جون 2013

 

 

اکیس اکتوبر 2012

اردو انجمن برلن نے اردو ادب کے تین ستاروں 

سعادت حسن منٹو ، احتشام حسین اور اسرارالحق مجاز

کی

صد سالہ سالگدہ منائی۔

اس موقعے پر

مقالے ، نظمیں اور غزلیں  اور ان ادیبوں کے بارے میں فلمی جھلکیاں  پیش کی گئیں۔

 

 

 

عارف نقوی

اک داغ ہے سینے میں دو اشک ہیں آنکھوں میں

مفلس  نہ  مجھے سمجھو  یہ  میرا   خزانہ  ہے

انور ظہیر رہبر

 منصف امیر ہو تو پائے سزا غریب     انصاف کے ہیں دنیا میں پیمانے بے شمار

 

عشرت معین سیما

خامشی آگ لگاتی ہے میرے چاروں اور    مجھکو افسوس ہے الفاظ کے جل جانے کا

 

خواجہ حنیف تمنا

 

طاہرہ رباب

اووے فائلباخ

ابراہیم شیخ   مانچسٹر

 

نا مکمل


Gratis Homepage von Beepworld
 
Verantwortlich für den Inhalt dieser Seite ist ausschließlich der
Autor dieser Homepage, kontaktierbar über dieses Formular!